میں نے پھیلایا دامنِ مقصود
بھر دے رحمت کے تُو گھر یارب
دلِ ویراں کو نور سے بھر دے
کہ ہو آباد یہ کھنڈر یارب
عرش اس کو کہوں کہ بیت اللہ
میرے دل میں ہے تیرا گھر یارب
نام کو تیرے رٹتے رٹے روز
شام سے میں کروں سحر یارب
میرے سینے کو اپنی اُلفت سے
بطفیلِ حبیب بھر یارب
ذرہ ذرہ سے آشکارا ہے
تُو کسی جا نہیں مگر یارب
تیرا جلوہ کہاں نہیں موجود
سب کے دل میں ہے تیرا گھر یارب
نَحْنُ اَقْرَب سے ٹَھل گیا کہ تُو ہے
رگِ جاں سے قریب تر یارب
تیری تحمید کرتے ہیں ہر دم
مور و مار و شجر حجر یارب
کرتے ہیں صبح و شام لیل و نہار
تیری تسبیح خشک و تر یارب
میرے جرم و قصور پر نہ جا
اپنی رحمت پہ کر نظر یارب
نہ ٹھکانہ مرا لگے گا کہیں
تُو نے چھوڑا مجھے اگر یارب
اپنے محبوب کا مجھے واصف
رکھ تو رحمت سے عمر بھر یارب
اُڑ کے پہنچوں میں شہرِ طیبہ میں
میرے لگ جائیں ایسے پر یارب
جو کہ جلتے ہیں ذکرِ مولد سے
کر عطا اُن کو سَقَر یارب
نیچری و وہابی و رفاض
قہر کی ان پہ کر نظر یارب
اور جتنے ہیں دشمنِ اسلام
جلد دوزخ میں ان کو بھر یارب
مَسخ کردے کہ اُن کی ہوجائے
صورت و صوتِ مِثلِ خَر یارب
دے یہ توفیق تیرے اعدا سے
اہلسنت کریں حَذَر یارب
زیرِ ہر دَم رہیں تیرے دشمن
دین تیرا رہے زَبَر یارب
قادری ہے جمیلؔ اے غفّار
سب گنہ اس کے عَفْو کر یارب